باپ کے انتقال کے بعد مریم جب پہلی بار اس گلی میں لوٹی تو سب سے پہلے اسے خاموشی اجنبی لگی۔ پہلے شام کے اس وقت کسی نہ کسی گھر سے برتنوں کی آواز آتی، بچے گیند کے پیچھے بھاگتے اور کونے کی دکان پر اس کا باپ اخبار تہہ کرتے ہوئے کسی بحث کا آخری جملہ کہہ رہا ہوتا۔ آج بارش تھی، بند دروازے تھے اور گلی کے آخری سرے پر ایک روشن کھڑکی۔
وہ کھڑکی ان کی لائبریری کی تھی۔
مریم نے چھتری سمیٹی اور زنگ آلود تالے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ تالا کھلا ہوا تھا۔ اندر ایک بوڑھی عورت میز پر جھکی کسی کتاب کے پھٹے ہوئے صفحے کو باریک کاغذ سے جوڑ رہی تھی۔
’’تم مریم ہو؟‘‘ عورت نے عینک کے اوپر سے دیکھا۔
’’جی۔ آپ؟‘‘
’’صفیہ۔ تمہارے ابا مجھے کتابوں کی ڈاکٹر کہتے تھے۔‘‘
مریم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی، مگر ٹھہر نہ سکی۔ ’’مجھے لگا دکان بند ہوگی۔‘‘
’’یہ دکان کب تھی؟‘‘ صفیہ نے گوند کی شیشی بند کی۔ ’’چابی پڑوس میں دے جاتی ہوں۔ آج بارش نے روک لیا۔‘‘
مریم نے کمرے پر نظر دوڑائی۔ وہی لکڑی کی الماریاں، وہی چھت کا پنکھا، وہی نیلی کرسی جس پر بیٹھ کر وہ اسکول کا کام کیا کرتی تھی۔ میز کے کونے پر باپ کا چائے کا پیالہ رکھا تھا۔ پیالے میں اب پنسلیں تھیں۔
وہ اس جگہ کو بیچنے آئی تھی۔
شہر میں اس کی ملازمت ختم ہو چکی تھی۔ دو مہینے کا کرایہ باقی تھا۔ جائیداد کے دلال نے کہا تھا کہ پرانی کتابوں کی جگہ موبائل فون کی دکان بن سکتی ہے۔ مریم نے فون پر ہاں کہہ دی تھی۔ ایک خالی کمرے اور چند کتابوں کے لیے اپنی زندگی تو نہیں روکی جا سکتی تھی۔
’’کل ایک آدمی آئے گا،‘‘ اس نے کہا۔ ’’جگہ دیکھنے۔‘‘
صفیہ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ بس میز کی دراز سے موٹا سا رجسٹر نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
’’پہلے یہ دیکھ لینا۔ کچھ کتابیں ابھی واپس آنی ہیں۔‘‘
رجسٹر پر باپ کی لکھائی میں درج تھا: امانت۔
مریم نے ورق پلٹے۔ نام، کتاب، تاریخ۔ بعض ناموں کے آگے سبز نشان تھا، بعض کے آگے سرخ۔ اسے یاد آیا، وہ بچپن میں ان نشانوں کو قرض اور وصولی سمجھتی تھی۔ باپ سے پوچھتی تو وہ کہتے، ’’تم ابھی اپنا حساب سیکھو۔‘‘
آخری صفحے پر اس کا اپنا نام تھا۔
مریم — واپسی کی تاریخ مقرر نہیں۔
اس نے جلدی سے رجسٹر بند کر دیا۔ ’’ابا کو ہر بات میں مذاق سوجھتا تھا۔‘‘
صفیہ نے پھٹے ہوئے صفحے پر ہتھیلی پھیری۔ ’’کبھی کبھی آدمی وہ بات لکھ دیتا ہے جو کہہ نہیں پاتا۔‘‘
اسی وقت دروازے پر ایک لڑکا نمودار ہوا۔ اس کی وردی بارش سے بھیگی تھی اور ایک کتاب قمیص کے اندر چھپی ہوئی تھی۔
’’چاچا نہیں ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
مریم جواب دینے لگی تو لڑکے نے صفیہ کی طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔ شاید اسے خبر تھی؛ شاید عادت زبان سے پہلے دروازے تک آ گئی تھی۔
اس نے کتاب میز پر رکھ دی۔ ’’یہ واپس کرنے آیا ہوں۔ دو دن دیر ہو گئی۔ امی کی طبیعت خراب تھی۔‘‘
’’نام؟‘‘ مریم نے رجسٹر کھولا۔
’’حمزہ۔‘‘
نام کے آگے سرخ نشان تھا۔
’’کتنے پیسے دینے ہیں؟‘‘ لڑکے نے مٹھی کھولی۔ چند سکے اس کی گیلی ہتھیلی سے چپکے ہوئے تھے۔
مریم نے صفیہ کو دیکھا۔
’’سرخ نشان کا مطلب ہے اسے کتاب پڑھنے میں مدد چاہیے،‘‘ صفیہ بولیں۔ ’’سبز کا مطلب ہے یہ کسی اور کو پڑھ کر سنا سکتا ہے۔‘‘
مریم کچھ دیر رجسٹر کو دیکھتی رہی۔ باپ کے حساب میں رقم کا ایک بھی خانہ نہیں تھا۔
حمزہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا، ’’دوسری کتاب لے جاؤں؟ اس والی میں آخر پر لڑکا گھر پہنچ گیا تھا۔ کوئی ایسی ہو جس میں آگے بھی کچھ ہو۔‘‘
مریم الماری تک گئی۔ کتابوں کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اپنے باپ کی انگلیاں یاد آئیں؛ روشنائی لگی ہوئی، ناخنوں کے کناروں پر گوند۔ انہی ہاتھوں نے ایک دن اس کی یونیورسٹی کی فیس جمع کی تھی۔ اس نے کبھی نہیں پوچھا تھا کہ پیسے کہاں سے آئے۔
اسے ایک بار باپ پر بہت غصہ آیا تھا۔ اس کی پہلی ملازمت کا خط آیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا تھا، ’’اچھا ہے، اپنا خیال رکھنا۔‘‘ نہ اسے روکنے کی کوشش کی، نہ خوشی میں کسی کو فون کیا۔ مریم کئی برس یہ سمجھتی رہی کہ اس کے جانے سے انہیں خاص فرق نہیں پڑا۔
الماری کے نچلے خانے میں ایک فائل ملی۔ اس کے اسکول کے نتیجے، یونیورسٹی کی رسیدیں اور اخبار سے کاٹی ہوئی وہ چھوٹی سی خبر جس میں اس کی کمپنی کے منصوبے کا ذکر تھا۔ خبر میں اس کا نام بھی نہیں تھا۔ باپ نے نیچے پنسل سے لکھ رکھا تھا: مریم یہاں کام کرتی ہے۔
’’یہ کتاب؟‘‘ حمزہ نے پوچھا۔
مریم نے فائل بند کر دی۔ ’’نہیں۔ تمہارے لیے دوسری نکالتی ہوں۔‘‘
اس رات وہ لائبریری کے فرش پر بیٹھی رہی۔ باہر بارش رک گئی تھی۔ اس نے دلال کا نمبر کئی بار کھولا، کئی بار بند کیا۔ باپ کی یاد اپنی جگہ تھی، مگر کرایہ بھی حقیقت تھا۔ محبت بجلی کا بل ادا نہیں کرتی، اور خالی جیب کے ساتھ کسی کی یاد سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔
صبح دلال آیا تو مریم نے اسے اندر بٹھایا۔ اس نے دیوار ناپی، کھڑکی دیکھی اور کہا، ’’یہ سامنے والا حصہ توڑنا پڑے گا۔‘‘
’’میں ابھی فروخت نہیں کروں گی،‘‘ مریم نے کہا۔ پھر فوراً اضافہ کیا، ’’ایک مہینہ چاہیے۔ بس ایک مہینہ۔‘‘
اس نے کوئی بڑا وعدہ نہیں کیا تھا۔ نہ اسے یقین تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اگلے تین دن اس نے کتابیں گنیں، چھت کی مرمت کا خرچ معلوم کیا اور اپنی بچی ہوئی رقم کاغذ پر لکھی۔ صفیہ ہفتے میں تین دوپہریں دینے پر تیار ہو گئیں۔ محلے کے ایک استاد نے ہفتے کی شام بچوں کو پڑھانے کی حامی بھری۔ مریم نے سامنے کی چھوٹی میز پر ترجمے اور ٹائپنگ کا کام شروع کیا۔ کتابیں پڑھنے کی فیس نہیں تھی؛ مگر جو دے سکتا تھا، وہ بجلی اور مرمت کے ڈبے میں کچھ ڈال دیتا۔
پہلے ہفتے ڈبے میں اتنے پیسے بھی نہیں آئے کہ نیا بلب خریدا جا سکے۔ دوسرے ہفتے مریم کو ایک مختصر ترجمے کا کام ملا۔ اس نے رسید سنبھال کر رکھی اور پہلی بار رجسٹر کے ساتھ خرچ کی الگ کاپی بھی رکھ دی۔
ایک شام حمزہ نے کتاب واپس کی اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹی بچی تھی۔
’’اسے ابھی مشکل لفظ نہیں آتے،‘‘ اس نے بتایا۔ ’’میں پڑھ کر سناؤں؟‘‘
مریم نے رجسٹر میں حمزہ کے نام کے آگے سبز نشان لگا دیا۔ پھر آخری صفحہ کھولا۔ اپنے نام کے سامنے کچھ دیر قلم روکے رکھا۔
اس نے واپسی کی تاریخ نہیں لکھی۔ صرف اتنا لکھا: آج کھڑکی کھولی۔
باہر گلی میں اندھیرا اتر رہا تھا۔ حمزہ ایک لفظ پر اٹکا تو چھوٹی بچی ہنس پڑی۔ اس نے دوبارہ کوشش کی۔ مریم نے میز کا چراغ ان دونوں کی طرف کھسکا دیا۔
تخلیقی معاونت: مصنوعی ذہانت — Kkahani کے لیے تیار کردہ افسانہ۔
